13 جولائی 2012 - 19:30

بعض صہیونی اخباروں نے یہ راز فاش کیا ہے کہ اسرائیل کا خفیہ ادارہ عرب ممالک میں اپنی سرگرمیوں کو مزید پھیلانے کے لئے اپنے ایجنٹوں کو ٹریننگ دے رہا ہے۔

ابنا: صہیونی اخبار یدیعوت آحر نوت نے لکھا ہے کہ علاقے کے عرب ممالک میں جاری تبدیلیوں کے پیش نظر موساد مشرق وسطی اور افریقہ کے نئے علاقوں میں جاسوسی کرنا چاہتا ہے ۔ ترکی ، لیبیا ، سوڈان ، مصر اور سعودی عرب وہ ممالک ہیں جنھیں موساد نے اپنی توجہ کا مرکز بنا رکھا ہے۔

اسرائیل کے خفیہ ادارے کے سابق سربراہ عاموس یادلین نے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ موساد عرب ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کر رہا ہے  کہا ہے موساد کے تین ہزار ایک سو بیس ایجنٹ عرب ممالک میں سرگرم عمل ہیں جن میں سے ایک سو بانوے جاسوس سیاسی تنظیموں میں کام کر رہے ہیں ۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ موساد عرب ممالک میں اپنے جاسوسوں کی تربیت کے لئےٹریننگ کے دورے کرارہا ہے ۔ موساد سے وابستہ جاسوسوں نے حالیہ برسوں میں مصر اور سوڈان کو اپنی جولانگاہ میں تبدیل کردیا ہے ۔ بہت سے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سوڈان سے  اس کےجنوبی علاقے کو جدا کرانے میں اسرائیل کے خفیہ ادارے  موساد کے جاسوسوں کا ہاتھ ہے ۔ جنوبی سوڈان میں شورشی گروہوں کے ساتھ موساد کا رابطہ اور ان  کی مالی اور ہتھیاروں سے مدد کرکے جنوبی سوڈان کو سوڈان سے جد کرادیا ۔ لیکن جنوبی سوڈان اور سوڈان کے کی سرحدوں کے حالات اب بھی خراب اور کشیدہ ہیں ۔ اس وقت بھی مغربی سوڈان خاص طور پر دار فور موساد کے جاسوسوں کے مرکز میں تبدیل ہوچکاہے ۔ 

موساد کے جاسوس عرب ممالک کی تنظیموں اور قومی اور مذھبی قبائل میں گھس کر ان ممالک میں بد امنی پھیلانے  کی کوشش رہے ہیں ۔ صیہونی حکومت کی ان پالیسیوں کے واضح نمونوں کو حالیہ مہینوں میں  لبنان حتی مصر میں دیکھا جاسکتا ہے ۔ لبنان کے شمال میں واقع طرابلس شہر میں اور اسی طرح مصر میں مسلمانوں اور عیسائی قبطیوں کے درمیان مذھبی اختلافات بھی اسرائیل اور امریکہ کی سازشوں کا نتیجہ ہیں ۔

عرب  ممالک میں فلسطینی اور غیر فلسطینی شخصیات کا قتل بھی موساد کی سرگرمیوں کا حصہ ہے ۔ اس وقت عرب ممالک  کواسلامی اور انقلابی  بیداری کا سامنا ہے جس سے اسرائیل  وحشت میں پڑ گیا ہے  لہذا موساد عرب ممالک میں اپنے جاسوسوں کے ذریعہ وہاں کے  امن کو خراب کرکے بحران پھیلانا چاہتا ہے ۔ عرب ممالک میں قومی ،قبائلی  مذھبی اور فرقہ وارانہ ختلاف پھیلانا موساد کی پالیسیوں کا ایک حصہ ہے ۔ان وجوہات کے پیش نظر عرب ممالک کے سربراہوں کی ہوشیاری  جو نئے ماحول کا تجربہ کر رہے ہیں ایک علاقائی ضرورت ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مصر جیسے  ملک میں جس پر ایک زمانے میں صہیونیوں کا مکمل تسلط تھا اور اس وقت  وہ مختلف ماحول اور خطرناک دور سے گذر رہا ہے علاقے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں اس کے لئے صہیونیوں خاص طور پر موساد کا خطرہ زیادہ ہے ۔اس لئے کہ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ  پر نظر ثانی کا مطالبہ مصری قوم کے ایک بنیادی مطالبے میں تبدیل ہوچکا ہے ۔.......

/169